مکمل تفصیلات
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ہفتہ کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران پی ٹی آئی کی زیرِ قیادت خیبر پختونخوا حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا مرکزی مؤقف یہ تھا کہ صوبے میں حکمرانی کمزور ہے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ملنے والے وسائل درست سمت میں استعمال نہیں کیے جا رہے۔
تارڑ نے الزام لگایا کہ نیشنل فنانس کمیشن کے تحت خیبر پختونخوا کو 700 ارب روپے دیے گئے، مگر اس کے باوجود کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کو اپ گریڈ نہیں کیا گیا، فرانزک لیبارٹریاں قائم نہیں کی گئیں، اور سیف سٹی کیمرے نصب نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق یہ کیمرے خاص طور پر ضم شدہ اضلاع اور کے پی کے تمام اضلاع کے داخلی و خارجی راستوں پر لگنے چاہئیں تھے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی یہ رقم احتجاجی سرگرمیوں پر خرچ کر رہی ہے۔ ان کے بقول صوبائی قیادت دہشت گردی کے مسئلے پر سنجیدہ گفتگو کے لیے آدھا گھنٹہ بھی نہیں دیتی، لیکن ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ پھیلانے کے لیے چھ گھنٹے کی میٹنگیں کی جاتی ہیں۔ تارڑ نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنے قائد، سابق وزیرِاعظم عمران خان، کی جیل سے رہائی کے لیے صوبے کے لاکھوں لوگوں کو “پھنسا” رکھا ہے۔
تاریخ: ہفتہ، 2026-10-10
مقام: اسلام آباد
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2036151/govt-assails-pti-over-lack-of-governance-in-khyber-pakhtunkhwa
عوامی اثرات
یہ تنازعہ براہِ راست خیبر پختونخوا کے عوام سے جڑا ہے، کیونکہ بحث کا محور دہشت گردی، امن و امان، اور صوبائی وسائل کا استعمال ہے۔ اگر واقعی سی ٹی ڈی، فرانزک سہولتیں اور سیف سٹی نظام کمزور ہیں تو اس کا اثر عام شہریوں، کاروبار، سفر، اور روزمرہ تحفظ پر پڑتا ہے۔
دوسری طرف یہ الزام سیاسی بھی ہے اور انتظامی بھی، کیونکہ وفاقی وزیر نے صوبائی حکومت پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ عوامی تحفظ کے بجائے احتجاجی سیاست کو ترجیح دے رہی ہے۔ ایسے بیانات صوبے میں پہلے سے موجود سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خاص طور پر جب بات عمران خان کی رہائی، پی ٹی آئی کی حکمت عملی، اور دہشت گردی جیسے حساس موضوعات کی ہو۔
عمل یا حل
اس معاملے میں اصل سوال یہ ہے کہ 700 ارب روپے کے دعوے کے بعد زمینی سطح پر کیا واقعی سکیورٹی ادارے، فرانزک نظام اور نگرانی کا انفراسٹرکچر بہتر ہوا یا نہیں۔ اگر صوبائی حکومت کے پاس جواب ہے تو اسے اعداد و شمار، منصوبوں، اور مکمل شدہ اقدامات کے ساتھ سامنے آنا چاہیے تاکہ بحث نعرے بازی سے نکل کر کارکردگی پر آ سکے۔
دوسری طرف وفاق اور صوبہ دونوں پر دباؤ ہے کہ دہشت گردی کے مسئلے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے عملی حکمتِ عملی سے حل کریں۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا کے پی کے عوام کو سکیورٹی، گورننس اور ترقی چاہیے یا مستقل احتجاجی سیاست؟ یہی وہ بحث ہے جو اب مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔