مکمل تفصیلات

اسلام آباد کی اینٹی ٹیررازم کورٹ میں انسانی حقوق کی وکیل آئمان مزاری اور ان کے شوہر اور ساتھی وکیل حادی علی چٹھہ کے کیس کی سماعت ہوئی۔ یہ سماعت 5 دسمبر 2025 کی ہے، جب دونوں عدالت میں موجود تھے۔ اصل فوٹو میں بھی آئمان مزاری اور حادی علی چٹھہ کو اسلام آباد کی عدالت میں دیکھا گیا، اور یہ تصویر اے ایف پی کی ہے۔

سماعت کے دوران جج نے کیس ریکارڈ میں تاخیر پر ناراضی ظاہر کی اور واضح انداز میں برہمی دکھائی۔ عدالت کو تفتیشی افسر بھی موجود نہیں ملا، جس پر اے ٹی سی نے اسلام آباد کے آئی جی کو طلب کر لیا۔ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالت نے محض تاخیر کو معمولی معاملہ نہیں سمجھا بلکہ پولیس کی عدم حاضری کو سنجیدہ مسئلہ قرار دیا۔

تاریخ: 5 دسمبر 2025
جگہ: اسلام آباد
متعلقہ فریق: آئمان مزاری، حادی علی چٹھہ، تفتیشی افسر، اسلام آباد آئی جی
اصل لنک: https://www.geo.tv/latest/686963-im-extremely-fearless-person-remarks-atc-judge-in-imaan-chattha-case

عدالت نے سماعت ملتوی کر دی، تاہم اگلی تاریخ کا ذکر فراہم شدہ متن میں موجود نہیں۔ اس کیس میں آئندہ کارروائی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ریکارڈ مکمل ہو، تفتیشی افسر پیش ہو اور عدالت کے سوالات کا جواب دیا جائے۔

عوامی اثرات

یہ خبر صرف ایک عدالتی تاریخ کی تاخیر نہیں بلکہ اس سوال سے جڑی ہے کہ حساس مقدمات میں پولیس اور تفتیشی ادارے عدالت کے سامنے کتنے جواب دہ ہیں۔ جب ریکارڈ وقت پر نہ آئے اور تفتیشی افسر حاضر نہ ہو تو نہ صرف کیس متاثر ہوتا ہے بلکہ انصاف کی رفتار بھی سست پڑ جاتی ہے۔

آئمان مزاری ایک معروف انسانی حقوق کی وکیل ہیں، اس لیے ان سے متعلق ہر عدالتی پیش رفت پر قانونی حلقوں اور عوام دونوں کی نظر رہتی ہے۔ ایسے مقدمات میں تاخیر عام شہریوں کے اعتماد پر بھی اثر ڈالتی ہے، کیونکہ لوگ دیکھتے ہیں کہ طاقتور یا حساس کیسز میں بھی کارروائی رکی رہ سکتی ہے۔

عمل یا حل

اس کیس میں اگلا عملی مرحلہ یہی ہے کہ عدالت کے طلب کرنے پر اسلام آباد کے آئی جی اور متعلقہ تفتیشی افسر پیش ہوں، ریکارڈ مکمل ہو اور سماعت باقاعدہ آگے بڑھے۔ اگر ادارے وقت پر اپنا کام کریں تو نہ صرف عدالت کا وقت بچتا ہے بلکہ فریقین کو بھی غیر ضروری انتظار سے نجات ملتی ہے۔

یہ معاملہ ایک بڑے سوال کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے: کیا پولیس اور تحقیقاتی نظام عدالتوں کے سامنے واقعی اتنا جواب دہ ہے جتنا ہونا چاہیے؟ جب تک ریکارڈ اور افسران کی بروقت حاضری یقینی نہیں بنائی جائے گی، ایسے کیس بار بار التوا کا شکار ہوتے رہیں گے۔