مکمل تفصیلات
کراچی میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے نقیب اللہ محسود قتل کیس میں مزید 7 پولیس اہلکاروں کو بھی بری کر دیا۔ یہ فیصلہ ہفتے کے روز ATC-VI کے جج نے سنایا، جبکہ اس سے پہلے سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار بھی اسی کیس میں بری ہو چکے تھے۔
یہ سات اہلکار جن پر مقدمہ چل رہا تھا، ان میں شاہ لطیف ٹاؤن کے اس وقت کے ایس ایچ او امان اللہ مروت، سچل پولیس کے اس وقت کے ایس ایچ او شیخ محمد شعیب عرف شوٹر، اے ایس آئی گدا حسین، ہیڈ کانسٹیبل صداقت علی، ہیڈ کانسٹیبل محسن عباسی، کانسٹیبل راجہ شمیم اور کانسٹیبل رانا ریاض احمد شامل تھے۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے جنوری 2018 کے مبینہ جعلی مقابلے میں نسیم اللہ عرف نقیب اللہ محسود، محمد صابر، نذیر جان اور محمد اشفاق کو قتل کیا۔
عدالت نے گواہوں کے بیانات اور دونوں طرف کے حتمی دلائل سننے کے بعد ملزمان کو شواہد کی کمی کی بنیاد پر بری کیا۔ استغاثہ کی جانب سے پراسیکیوٹر انیلا ملک نے مؤقف اختیار کیا کہ 40 سے زائد گواہان، جن میں اہم گواہ بھی شامل تھے، پیش کیے گئے اور ان کے مطابق ملزمان کا جرم سے تعلق ثابت ہوتا ہے۔
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2032901/atc-acquits-7-more-policemen-for-lack-of-evidence-in-naqeebullah-mehsuds-murder-case
تاریخِ فیصلہ: ہفتہ، 27 ستمبر 2026 (رپورٹ کے مطابق)
عوامی اثرات
نقیب اللہ محسود کیس پاکستان میں پولیس مقابلوں، طاقت کے استعمال اور احتساب کے سوالات کو ایک بار پھر زندہ کر دیتا ہے۔ یہ صرف ایک عدالتی خبر نہیں، بلکہ ان خاندانوں کے لیے بھی بڑا صدمہ ہے جن کے پیارے 2018 کے اس واقعے میں مارے گئے۔ جب ایسے حساس مقدمات میں بریت آتی ہے تو عوام کے ذہن میں یہ سوال مزید گہرا ہوتا ہے کہ کیا متاثرہ فریق کو واقعی انصاف ملا یا نہیں۔
کراچی اور ملک بھر میں اس فیصلے کو پولیس کلچر، تفتیشی معیار اور شواہد کے نظام کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔ اگر بڑے کیسز میں ثبوت مضبوط نہ ہوں تو نہ صرف مقدمہ کمزور پڑتا ہے بلکہ ریاست پر اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔ اسی لیے یہ فیصلہ عام شہریوں کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ کل کو کسی بھی شہری کے ساتھ زیادتی ہو تو انصاف کا معیار اسی نظام سے جڑا ہوتا ہے۔
عمل یا حل
اب اصل بحث یہ ہے کہ کیا ایسے حساس قتل کیسز میں تفتیش کا معیار بہتر بنایا گیا ہے یا نہیں۔ پولیس، پراسیکیوشن اور عدالتی نظام تینوں پر دباؤ ہے کہ وہ شواہد، گواہوں اور فرانزک ریکارڈ کو اس سطح پر لائیں جہاں فیصلے محض دعووں پر نہیں بلکہ مضبوط ثبوت پر ہوں۔ ورنہ ہر بڑا کیس برسوں چلنے کے بعد بھی عوامی سوالات چھوڑ جاتا ہے۔
نقیب اللہ محسود کیس ایک بار پھر یہ یاد دلاتا ہے کہ جعلی مقابلوں کے الزامات صرف ایک خاندان کا مسئلہ نہیں، پورے معاشرے کے اعتماد کا مسئلہ ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس فیصلے کے بعد قانونی جنگ کہاں جاتی ہے اور متاثرہ فریق کو آگے کیا راستہ ملتا ہے۔ سوال سیدھا ہے: اگر اتنے بڑے مقدمے میں بھی شواہد کمزور رہیں، تو پھر انصاف کی ضمانت کون دے گا؟