انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران سامنے آنے والی انتظامی مشکلات اور کھلاڑیوں کے انتخاب پر پاکستان کے ایک سابق کپتان نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یاہو اسپورٹس کے مطابق، قومی ٹیم کے سابق قائد نے بورڈ کی جانب سے کیے گئے فیصلوں پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان کرکٹ میں حالیہ دنوں کے دوران ہوم ٹیسٹ سیریز میں ناکامیوں اور سلیکشن کمیٹی کی جانب سے یکے بعد دیگرے کیے جانے والے فیصلوں پر بحث گرم ہے۔ انگلینڈ کے خلاف پہلے میچ کے بعد اہم کھلاڑیوں کو ڈراپ کرنے اور ٹیم انتظامیہ میں بار بار تبدیلیوں نے کرکٹ حلقوں میں کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سابق کپتان کا موقف ہے کہ کرکٹ بورڈ کی عدم استحکام پر مبنی پالیسیاں کھلاڑیوں پر بے جا دباؤ کا باعث بن رہی ہیں۔ انہوں نے اس اندیشے کا بھی اظہار کیا کہ جس طرح فیصلے کیے جا رہے ہیں، اس سے لگتا ہے کہ اگلا ہدف اسٹار بلے باز بابر اعظم ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق کپتانی اور ٹیم میں جگہ کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال سے کھلاڑیوں کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔
پاکستان کرکٹ کے ماہرین کے نزدیک ڈریسنگ روم کے ماحول کو بہتر بنانا اور مسلسل تبدیلیوں کے سلسلے کو روکنا ٹیم کی کامیابی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ بابر اعظم پاکستان کے کلیدی کھلاڑی ہیں اور ان کے ارد گرد پیدا ہونے والے تنازعات کا اثر پوری ٹیم کی نفسیات پر پڑ سکتا ہے۔
فی الحال پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان اعتراضات پر کوئی باضابطہ جواب جاری نہیں کیا ہے۔ تاہم آنے والے دنوں میں ٹیم کی کارکردگی اور بابر اعظم کا ٹیم میں کردار نہ صرف شائقین کرکٹ بلکہ کرکٹ پنڈتوں کی توجہ کا بنیادی مرکز بنا رہے گا۔