مکمل تفصیلات
قومی اسمبلی میں بدھ کے روز اپوزیشن لیڈر مہموُد خان اچکزئی نے حکومت کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں بھی اگلا گورنر راج لگایا جا سکتا ہے، اور انہوں نے اس کی وجہ پانی، معدنیات اور ندی نالوں پر “قبضے” کو قرار دیا۔ ان کے مطابق مرکز کو صوبوں کے حقوق اور وسائل واپس کرنے چاہییں، ورنہ سیاسی بحران مزید گہرا ہوگا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا میں اتوار کے روز گورنر راج نافذ کرنے کی توثیق کرنے والی قرارداد منظور کی گئی۔ وفاقی حکومت نے اس اقدام کی وجہ یہ بتائی کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ سے “دانستہ طور پر الگ” رہی۔ اس سے پہلے سیاسی ماحول پہلے ہی کشیدہ تھا، خاص طور پر پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے قید بانی عمران خان کی رہائی کے لیے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد۔ یہ مارچ اسلام آباد کی طرف جانا تھا، مگر بعد میں خیبر پختونخوا تک محدود رہا اور پھر صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد عملی طور پر ختم ہوگیا۔
تاریخ: بدھ، 15 اکتوبر 2026
وقتِ اشاعت: 05:50 PKT
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2037156/achakzai-sees-governors-rule-next-being-imposed-in-sindh-over-water-and-mines
اہم نکتہ: اچکزئی کے مطابق اصل مسئلہ صرف ایک صوبے کا نہیں، بلکہ صوبائی حقوق، وسائل کی تقسیم اور وفاق-صوبہ تعلقات کی کھینچا تانی ہے، جس نے اب سندھ تک ممکنہ توسیع کی بحث چھیڑ دی ہے۔
عوامی اثرات
یہ خبر عام پاکستانیوں کے لیے اس لیے اہم ہے کہ اس میں صرف ایک سیاسی بیان نہیں، بلکہ صوبوں کے اختیار، وسائل کی تقسیم اور مرکز و صوبہ تعلقات کا بڑا تنازعہ چھپا ہوا ہے۔ پانی، معدنیات اور ندی نالے جیسے معاملات براہِ راست روزمرہ زندگی، مقامی معیشت اور صوبائی خودمختاری سے جڑے ہوتے ہیں، اس لیے سندھ کا نام آنا خود ایک حساس سیاسی اشارہ بن گیا ہے۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی توثیق کے بعد یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ سیاسی اختلاف اب انتظامی فیصلوں پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ، عمران خان کی قید، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کے کردار پر وفاقی مؤقف نے ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں ہر صوبے کے ووٹر یہ دیکھ رہے ہیں کہ طاقت کے فیصلے ان کے حقوق پر کیا اثر ڈالیں گے۔
عمل یا حل
اس صورتحال میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی کشمکش کا حل ایک کے بعد ایک سخت اقدام ہے، یا پھر صوبوں کے ساتھ بامعنی مذاکرات؟ اگر مرکز اور صوبے ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے آئینی دائرے میں بیٹھ کر وسائل، سکیورٹی اور انتظامی اختیارات پر بات کریں تو کشیدگی کم ہو سکتی ہے۔
عوام کے لیے بھی یہ معاملہ نظر انداز کرنے والا نہیں، کیونکہ آج خیبر پختونخوا، کل سندھ، اور پھر کسی اور صوبے کا نام بحث میں آ سکتا ہے۔ بہتر راستہ یہی ہے کہ قومی اسمبلی میں ایسے فیصلوں پر کھلی، شفاف اور آئینی بحث ہو، تاکہ طاقت کے بجائے دلیل غالب آئے۔ سوال یہ ہے: کیا پاکستان میں صوبوں کے حقوق واقعی محفوظ ہیں، یا ہر سیاسی بحران کے بعد نیا گورنر راج بحث میں آ جائے گا؟