مکمل تفصیلات
پشاور میں جمعہ کے روز محمود خان اچکزئی، جو قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف ہیں، نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان پر بھی ایک ایسا ہی سمجھوتہ مسلط کیا جا رہا ہے جیسا ماضی میں سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے ساتھ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق یہ وہ طرزِ عمل ہے جس میں سیاسی رہنماؤں کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد کسی نہ کسی بندوبست کے ذریعے منظرِ عام سے الگ کیا جاتا ہے۔
خبر میں وضاحت کی گئی کہ نواز شریف کو 2000 میں اس وقت ملک سے جانا پڑا جب جنرل پرویز مشرف کی فوجی کارروائی کے بعد انہیں معزول اور قید کیا گیا، جبکہ بے نظیر بھٹو 1997 کے عام انتخابات میں اپنی جماعت کی شکست اور صدر فاروق لغاری کی جانب سے برطرفی کے بعد خود جلاوطنی میں چلی گئی تھیں۔ اس وقت ان کے شوہر آصف زرداری بھی اسی سیاسی بحران کے تناظر میں زیرِ بحث رہے۔
اسی رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ ٹی ٹی اے پی اتحاد نے پشاور ہائی کورٹ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کو چیلنج کیا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ سوہیل آفریدی کے بارے میں حکام سے ان کی موجودگی/مقام ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا گیا، اور محمود خان منگل نے آئین بنانے والوں کے دعوے کرنے والوں پر آئین کو روندنے کا الزام لگایا۔
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2037779/imran-being-forced-into-benazir-nawaz-style-deal-claims-achakzai
تاریخِ اشاعت: 17 اکتوبر 2026، 12:08 PKT
عوامی اثرات
یہ خبر پاکستان کی سیاست کے ان حساس سوالات کو دوبارہ سامنے لاتی ہے جو ہر بڑے سیاسی بحران میں عوام کے ذہنوں میں آتے ہیں: فیصلے ووٹ سے ہو رہے ہیں یا بند کمروں کے سمجھوتوں سے؟ جب ایک بڑی اپوزیشن آواز یہ دعویٰ کرے کہ کسی مرکزی سیاسی شخصیت کو جلاوطنی جیسے فارمولے پر دھکیلا جا رہا ہے، تو اس کا اثر صرف ایک رہنما تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے سیاسی ماحول پر پڑتا ہے۔
عوام کے لیے یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ایسے دعوے اعتماد، آئین، ادارہ جاتی توازن اور سیاسی استحکام کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔ اگر گورنر راج، ایمرجنسی اور سیاسی رہنماؤں کی گمشدگی یا مقام چھپانے جیسے موضوعات ایک ہی فضا میں زیرِ بحث ہوں تو یہ صورتِ حال عام شہری کے لیے بھی تشویش بڑھا دیتی ہے کہ ملک کس سمت جا رہا ہے۔
عمل یا حل
اس مرحلے پر اصل سوال یہ ہے کہ ریاستی اور سیاسی حلقے ان الزامات کا جواب کس طرح دیتے ہیں۔ اگر واقعی کوئی سیاسی سمجھوتہ زیرِ غور ہے تو اس کی شفافیت، آئینی جواز اور عوامی آگاہی ضروری ہے؛ اور اگر ایسا کوئی بندوبست نہیں تو پھر ایسی قیاس آرائیوں کو ختم کرنے کے لیے واضح موقف آنا چاہیے۔ پشاور ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت چیلنجز بھی اسی بحث کو مزید اہم بناتے ہیں۔
عوام اور سیاسی کارکنوں کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ جذبات کے ساتھ ساتھ حقائق پر نظر رکھیں: کون سی عدالت میں کیا درخواست دائر ہوئی، کس نے کیا دعویٰ کیا، اور سرکاری یا عدالتی سطح پر کیا جواب آیا۔ اب بڑا سوال یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست ڈیلوں سے چلے گی یا کھلے آئینی عمل سے؟