پاکستان اس وقت شدید سیاسی بے یقینی اور اقتدار کے سخت بحران کی زد میں ہے، جہاں دہائیوں سے قائم سیاسی توازن اب مکمل طور پر بکھرتا دکھائی دے رہا ہے۔ تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی سیاست اور ان کے حالیہ سخت موکف نے ملک کے روایتی سیاسی اور انتظامی ڈھانچے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، جس کے اثرات معیشت اور عام زندگی پر بھی گہرے ہو رہے ہیں۔
فرائیڈے ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی سیاست میں طویل عرصے سے قائم پاور شیئرنگ اور اقتدار کی کشمکش کا روایتی فارمولا اب ناکارہ ہو چکا ہے۔ عمران خان کی جانب سے پرانے سیاسی ضوابط اور روایتوں کو چیلنج کرنے کے بعد، تمام فریقین کے درمیان محاذ آرائی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اداروں کے لیے توازن برقرار رکھنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس وقت مذاکرات یا افہام و تفہیم کا کوئی موثر راستہ نظر نہیں آتا۔ سابق وزیراعظم کے خلاف قانونی کارروائیاں، گرفتاری اور مقدمات کے باعث پی ٹی آئی اور حکومتی اتحاد میں دشمنی مزید گہری ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالتی فیصلوں اور انتظامی اقدامات نے ملک میں سیاسی خلیج کو مزید وسیع کر دیا ہے۔
یہ سیاسی کھینچ تان اس لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ پاکستان اس وقت تاریخ کے سخت ترین معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی پالیسیوں میں تسلسل لانا اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال کرنا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال سے نہ صرف ملکی سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی سیاسی ساخت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
سیاسی ماہرین کے مطابق، آنے والے دنوں میں یہ محاذ آرائی مزید شدید شکل اختیار کر سکتی ہے جب تک تمام فریقین کسی نئے اور پائیدار سیاسی معاہدے پر متفق نہیں ہوتے۔ اگر موجودہ کشیدگی اسی طرح برقرار رہی تو ملک کا سیاسی نظام مزید مفلوج ہو سکتا ہے، جس کے برعکس ایک جامع سیاسی حل ہی ملک کو اس دلدل سے نکال سکتا ہے۔