عوامی اثرات

یہ خبر صرف ایک سرٹیفکیٹ کی نہیں، بلکہ پاکستان میں پنشنرز کی روزمرہ زندگی سے جڑی بڑی سہولت کی ہے۔ بہت سے بزرگ شہری ہر سال دفتر، قطار، سفری خرچ اور دھکم پیل کے جھنجھٹ میں پھنس جاتے تھے؛ اب ایک بڑی تعداد نے گھر بیٹھے یہ مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔ اس سے خاص طور پر اُن خاندانوں کو ریلیف ملا ہے جہاں بزرگ کمزور صحت، محدود آمدنی یا نقل و حرکت کے مسائل کا شکار ہیں۔

جب 3 لاکھ 37 ہزار سے زائد افراد ایک ماہ میں اس نظام سے فائدہ اٹھائیں تو یہ اشارہ ہے کہ ڈیجیٹل سہولت واقعی عوامی ضرورت بن چکی ہے۔ ایسے اقدامات پنشن کے عمل کو صرف تیز نہیں کرتے بلکہ بدعنوانی، تاخیر اور غیر ضروری حاضری جیسے مسائل کم کرنے میں بھی مدد دے سکتے ہیں۔ پاکستان میں لاکھوں گھرانے پنشن پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے اس قسم کی سہولت براہِ راست گھریلو سکون، عزتِ نفس اور مالی تسلسل سے جڑی ہے۔

عمل یا حل

اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ سہولت ہر پنشنر تک یکساں طور پر پہنچ رہی ہے؟ پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے 1 لاکھ 74 ہزار 906 افراد نے گھر سے کام مکمل کیا، لیکن 1 لاکھ 34 ہزار 521 پنشنرز نے نادرا رجسٹریشن مراکز سے یہ سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل طریقہ کار کے ساتھ ساتھ آف لائن سہولت بھی ابھی ضروری ہے، کیونکہ ہر شہری کے پاس اسمارٹ فون، انٹرنیٹ یا ایپ استعمال کی مہارت نہیں ہوتی۔

حکومت اور نادرا کو چاہیے کہ اس عمل کو مزید آسان، تیز اور بزرگ دوست بنایا جائے، خاص طور پر چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں رہنے والے پنشنرز کے لیے۔ اگر مقصد واقعی سہولت دینا ہے تو زبان، ٹیکنالوجی اور رسائی کی رکاوٹیں کم کرنا ہوں گی۔ سوال یہ ہے: جب ایک بڑی تعداد یہ کام ایک ماہ میں کر چکی ہے تو کیا اب پنشن سسٹم کو مکمل طور پر مزید سادہ اور گھر تک لانے کا وقت نہیں آ گیا؟