پاکستان بھر میں یومِ دفاع و شہدا روایتی جوش و جذبے اور شاندار طریقے سے منایا گیا، جہاں ملک کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت نے 1965 کی جنگ کے نامور شہدا اور غازیوں کی عظیم قربانیوں کو زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق، صدرِ مملکت، وزیراعظم اور تمام عسکری شعبوں کے سربراہان نے اس تاریخی دن کی مناسبت سے اپنے پیغامات میں دفاعِ وطن کے غیر متزلزل عزم کو دہراتے ہوئے قومی سلامتی کی ضامن افواج کی خدمات کو سراہا۔
قومی اور عسکری قیادت نے اپنے پیغامات میں اس بات کو صاف الفاظ میں واضح کیا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے، لیکن اس کی امن پسندی کو کسی صورت میں بھی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ مسلح افواج نے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ ملک کی دفاعی صلاحیتیں انتہائی مضبوط اور ہر قسم کے بیرونی یا اندرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے 1965 کے تاریخی معرکے کی طرز پر ملک و قوم کی سرحدوں کی حفاظت کا اعادہ کیا۔
اس موقع پر صدر اور وزیراعظم نے علاقائی اور عالمی سطح پر امن و امان کے قیام میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے فعال کردار کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف ماضی میں جارحیت کا شجاعت سے مقابلہ کیا بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور خطے کی پائیدار سلامتی کے لیے جو قربانیاں دی ہیں، ان کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ یہ دفاعی عزم ملک کو معاشی اور سفارتی محاذ پر بھی استحکام فراہم کرتا ہے۔
یومِ دفاع کے موقع پر آزاد جموں و کشمیر کے تاریخی سیکٹر پانڈو سمیت مختلف علاقوں میں بھی شہدا کی یادگاروں پر تقاریب منعقد کی گئیں، جہاں سیکیورٹی اہلکاروں اور مقامی لوگوں نے شہدا کو سلامی پیش کی۔ دوسری جانب کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے ستمبر 1965 کے شہدا کے جذبے کو کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ شہدا کی قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی۔
آئندہ کے لائحہ عمل کے طور پر اعلیٰ قیادت نے اتفاق کیا ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید ترین تقاضوں اور ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھالنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ ملک کی خود مختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کا حامی ہے اور اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے مکمل طور پر خودکفیل اور بیدار مغز ہے۔