مکمل تفصیلات

منگل کے روز مری میں ایک اسکول وین حادثے کا شکار ہو کر آگ کی زد میں آ گئی۔ پولیس اور ریسکیو 1122 کے مطابق یہ واقعہ بارہ ہوتر لنک روڈ کے قریب پیش آیا، جہاں سوزوکی بولان سڑک سے ہٹ گئی اور اس کے فوراً بعد آگ بھڑک اٹھی۔ ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور گاڑی میں موجود مسافروں کو باہر نکالا۔ زیادہ تر سوار بچے تھے، جنہیں بروقت نکال لینے کی وجہ سے جان بچ گئی، مگر وین مکمل طور پر شعلوں کی لپیٹ میں آ گئی۔

ابتدائی معلومات کے مطابق زخمیوں کی تعداد 11 ہے۔ ان میں عمر 4 سال سے 14 سال کے درمیان بتائی گئی ہے۔ نو بچوں کو مختلف درجے کے برن انجریز آئیں، جبکہ دو بچے جھلسنے سے محفوظ رہے۔ اس واقعے میں گاڑی کو شدید نقصان پہنچا اور اسکول ٹرانسپورٹ کی حفاظت پر ایک بار پھر تشویش پیدا ہوئی۔

اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2033475/11-injured-after-school-van-catches-fire-in-murree
تاریخ: منگل، 2026-09-29 کو رپورٹ ہوا۔

عوامی اثرات

یہ خبر صرف ایک ٹریفک حادثہ نہیں، بلکہ والدین کے لیے بڑا خوف ہے۔ پاکستان میں اسکول وینیں روزانہ ہزاروں بچوں کو لے کر سڑکوں پر چلتی ہیں، اور اگر ایک معمولی سی بے احتیاطی یا تکنیکی خرابی بھی آگ سے جڑ جائے تو سب سے پہلے بچے ہی متاثر ہوتے ہیں۔ مری جیسے پہاڑی اور تنگ راستوں والے علاقے میں یہ خطرہ اور بھی بڑھ جاتا ہے، جہاں گاڑی کا سڑک سے اترنا بڑے حادثے میں بدل سکتا ہے۔

اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اسکول ٹرانسپورٹ کی فٹنس، ڈرائیور کی تربیت اور حفاظتی نظام کتنے مضبوط ہیں۔ جب 4 سے 14 سال کے بچے جھلسنے سے زخمی ہوں تو یہ مسئلہ صرف ایک خاندان کا نہیں رہتا، پورے معاشرے کی فکر بن جاتا ہے۔ ایسے واقعات والدین کے اعتماد کو ہلا دیتے ہیں اور اسکول انتظامیہ، ٹرانسپورٹ مالکان اور متعلقہ حکام سب کو جواب دہ بناتے ہیں۔

عمل یا حل

اس حادثے کے بعد فوری ضرورت اس بات کی ہے کہ اسکول وینز کی باقاعدہ فٹنس چیکنگ، آگ بجھانے کے آلات، ہنگامی دروازے، اور ڈرائیوروں کی تربیت کو لازمی بنایا جائے۔ خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں چلنے والی گاڑیوں کے لیے الگ حفاظتی معیار ہونا چاہیے تاکہ ایک معمولی سلپ بھی بچوں کی جان پر نہ بن آئے۔ ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائی نے اس واقعے میں بڑا نقصان ہونے سے بچا لیا، مگر اصل حل حادثے کے بعد نہیں، حادثے سے پہلے کی تیاری ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا اسکول ٹرانسپورٹ صرف کمائی کا ذریعہ ہے یا بچوں کی جان سے جڑا ایک سنجیدہ عوامی مسئلہ؟ جب تک گاڑیوں کی سخت نگرانی، اسکولوں کی جواب دہی اور والدین کی مسلسل نظر نہیں ہوگی، ایسے سانحات بار بار ہوتے رہیں گے۔